حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جامعہ مظہر الایمان ڈھڈیال، چکوال میں ایک پُروقار علمی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چار سالہ تعلیمی مراحل مکمل کرنے والے نو طلاب کو اسنادِ فراغت سے نوازا گیا۔ یہ طلاب علومِ دینیہ میں مزید تخصص، تحقیق اور تحصیلِ علم کے لیے حوزۂ علمیہ نجف اشرف روانہ ہو رہے ہیں۔
تقریب کا مقصد طلاب کی علمی کاوشوں کو سراہنے کے ساتھ ساتھ انہیں دینی تعلیم کے اگلے مراحل کے لیے آمادہ کرنا اور حصولِ علم کے سفر میں ان کی فکری، اخلاقی اور تربیتی رہنمائی کرنا تھا۔ اس موقع پر جامعہ کے پرنسپل، استاد محترم حجت الاسلام محی الدین کاظم نے طلاب کو خصوصی درس دیا اور علمِ دین کی اہمیت، دینی ذمہ داریوں اور راہِ علم میں اخلاص و استقامت کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
علمِ دین؛ ایک عظیم ذمہ داری
آغا محی الدین کاظم نے اپنے درس میں علمِ دین کی عظمت اور اس کے حصول کے بنیادی مقاصد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے واضح کیا کہ دینی تعلیم محض چند علمی مراحل مکمل کرنے یا اسناد حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کا تقاضا ہے کہ طالب علم اپنے علم کو کردار سازی، اصلاحِ معاشرہ اور خدمتِ دین کا ذریعہ بنائے۔
انہوں نے طلاب کو متوجہ کیا کہ علومِ محمد و آلِ محمدؑ کی تحصیل ایک مقدس امانت ہے۔ اس امانت کا حق اسی وقت ادا ہو سکتا ہے جب طالب علم اپنے علمی سفر کو سنجیدگی، احساسِ ذمہ داری اور مقصدیت کے ساتھ آگے بڑھائے۔ علم کا حقیقی ثمر اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ انسان کی فکر، اخلاق اور عملی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرے۔

حصولِ علم میں اخلاص اور استقامت کی اہمیت
پرنسپل جامعہ مظہر الایمان نے طلاب کی تربیتی رہنمائی کرتے ہوئے اخلاصِ نیت کو حصولِ علم کی بنیادی شرط قرار دیا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ طالب علم کا مقصد شہرت، منصب یا ذاتی مفادات کا حصول نہیں، بلکہ رضائے الٰہی، معرفتِ دین اور مکتبِ اہل بیتؑ کی تعلیمات کی ترویج ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا: راہِ علم میں کامیابی کے لیے مسلسل محنت، صبر، نظم و ضبط اور استقامت ناگزیر ہیں۔ علمی ترقی ایک تدریجی سفر ہے، جس میں مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے؛ تاہم بلند مقصد، مضبوط ارادے اور اساتذہ کی رہنمائی کے ذریعے ان مراحل کو کامیابی سے طے کیا جا سکتا ہے۔
حوزۂ علمیہ نجف اشرف میں تعلیم کے تقاضے
حجت الاسلام محی الدین کاظم نے نجف اشرف روانہ ہونے والے طلاب کو متوجہ کیا کہ حوزۂ علمیہ نجف اشرف کی علمی و دینی روایت سے بھرپور استفادہ کریں، اپنے اساتذہ کا احترام ملحوظ رکھیں اور مطالعے، مباحثے اور تحقیق کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ ایک کامیاب طالب علم کے لیے علمی استعداد کے ساتھ اخلاقی پختگی، تواضع، سنجیدگی اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی ضروری ہے۔
انہوں نے طلاب کو نصیحت کی کہ وہ اپنے وقت کی قدر کریں، تعلیمی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور علم کے حصول میں کسی قسم کی سستی یا غفلت کو راہ نہ دیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اساتذہ سے مسلسل رہنمائی حاصل کرتے رہیں اور علمی مسائل کو سمجھنے، ان پر غور کرنے اور تحقیق کے ذریعے اپنی استعداد بڑھانے کی کوشش کریں۔

دینی خدمات کے لیے خود کو تیار کرنے کی ضرورت
درس کے دوران اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ دینی طالب علم کی ذمہ داری صرف اپنی علمی ترقی تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اسے مستقبل میں معاشرے کی دینی و اخلاقی رہنمائی کے لیے بھی خود کو تیار کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن کریم، سیرتِ رسول اکرمؐ اور تعلیماتِ اہل بیتؑ سے گہرا تعلق قائم رکھے اور اپنے علم کو معاشرے کی اصلاح اور دینی شعور کے فروغ کے لیے بروئے کار لانے کا عزم کرے۔
تقریب کے اختتام پر چار سالہ تعلیمی مراحل مکمل کرنے والے نو طلاب کی علمی کامیابی کو سراہا گیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ یہ طلاب اب حصولِ علم کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، جہاں ان سے مزید محنت، سنجیدگی اور علمی و اخلاقی ترقی کی توقع کی جا رہی ہے۔










آپ کا تبصرہ